ہمارا خواب  



 جنت کا راستہ میں علم کے پھل اور کردار  سازی کی تربیت

 

آپ نے کبھی سوچا ہے کی اِسلام آپ سے کیا چاہتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی سوال کیا ہے کی اِسلام کی حتمی پیداوار کیا ہے؟ ایک مسلمان کا رویہ کیسا ہونا چاہئے؟ یہ سب صرف ظاہری عبادت ہے یا اِس کے علاوہ بھی کچھ اور ہے؟

آپ نے کبھی سوچا ہے کی اِسلام آپ سے کیا چاہتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی سوال کیا ہے کی اِسلام کی حتمی پیداوار کیا ہے؟ ایک مسلمان کا رویہ کیسا ہونا چاہئے؟ یہ سب صرف ظاہری عبادت ہے یا اِس کے علاوہ بھی کچھ اور ہے؟


جڑیں

ہم جڑوں سے آغاز کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ زمین کے نیچے ہوتی ہیں اور دیکھائی نہیں دیتیں، پھر بھی یہ جڑیں درخت کی بنیاد ہونے کی بناء پر  بہت اہمیت کی حامل ہیں اور درخت کو سیدھا  رکھتی ہیں۔  جڑیں   ایک انسان کی اللہ کی خوشنودی کے سفر میں اِن چار حا لات کی نمائندگی کرتی ہیں۔

1 عقیدہ     2۔ فقہ   3۔ توبہ   4۔ جہاد

جنت کا راستہ میں ہم لوگوں کو  مضبوط جڑوں اور اچھی بنیاد کی تربیت دیتے ہیں، نہ کہ وہ جڑوں میں اس قدر اُلجھ جائیں کہ تنا، شاخیں، پتوں اور درخت کے پھلوں کے بارے میں ہی بھول جائیں۔  ہم اپنے طالبعلموں کو نصیھت کرتے ہیں کہ وہ  محض بحث برا ئے بحث نہ کریں بلکہ اپنے کردار  کی خوبصورتی سے لوگوں (مسلمان/غیر مسلمان) کو قائل کریں اور تمام حالات میں غیر مہذب رویے اور  طنز آمیز جملوں سے پرہیز کریں۔

تنا

تنا خلوص کی نمائندگی کرتا ہے اور  یہ  انسان کے مقاصد کی طہارت کا  ایک عمل ہے ۔  جنت کا راستہ میں ہم ا پنے طالبِ علموں کو  خلوص اور نیت کی پاکیزگی  کی اہمیت کے بارے میں سکھاتے ہیں کیونکہ اگر ایک انسان  وقت کے ساتھ ساتھ اللہ اور اسکے پیغمبر ﷺ کے ساتھ خلوص ِدل سے چلنا سیکھ لے تو اسکا رویہ اذ خود باقی تخلیق کی طرف مخلص ہو جائے گا۔  ورنہ  وہ شخص مذہب اور انسانیت کے نام پر خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک شخص دھوکا دہی یا دوسروں کے سامنے خود کو مذہبی یا خیراتی اور ہمدرد دکھانے کے غرض سے ظاہری طور  پراور  بغیر خلوص کے  لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔   اللہ کے سامنے خلوص کے بغیر کیا گیا کوئی بھی عمل انسان کے لئے سوائے اللہ کے قہر ، حقارت اور نا مقبولیت کے کچھ نہیں لاتا۔

تنا  اللہ اور اسکے پیارے رسول حضرت محمدﷺ کے پیار کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ جنت کا راستہ میں ہم اپنے طالب علموں کو  اللہ اوراسکے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کے مطابق سچے اور پاکیزہ پیار کے بارے میں سکھاتے ہیں اور  ان میں اس غیر مشروط اور پاکیزہ   محبت کی خواہش اور تشنگی کو پیدا کرتے ہیں۔

شاخیں

 درخت کی شاخیں انسان کے بدن، دل اور دماغ کی پاکیزگی کی نمائندگی کرتیں ہیں اور جنت کا راستہ میں ہم اللہ کی راہ سے متعلق مندرجہ ذیل باتوں پر تعلیم دیتے ہیں۔

پہلی شاخ: 7 اعضاء

اللہ کی خوشنودی کے سفر میں سب سے پہلے ان سات اعضاء   کا پاک ہونا ضروری ہےجن میں  زبان، آنکھیں، کان،  معدہ ، ہاتھ، پیر اور نجی عضو شامل ہیں۔ اِن میں سے کچھ اعضاء   کا اگر صحیح  استعمال کیا جائے جیسے کہ زبا ن ، جس میں تعلقات بنانے کی طاقت مو جود ہے ، تاہم اسکے غیر درست استعمال پر بہترین رشتے تک ٹوٹ جاتے ہیں۔ درحقیقت ہم دیکھ سکتے ہیں معاشرے کے ذیادہ تر لڑائی جھگڑے کا سبب  زبان کے غلط استعمال ہے۔

اسکے علاوہ ، جب ان سات  اعضاء کا استعمال گناہ کرنے کے لئے کیا جائے تو تاریک قوتیں انسان کے دل میں داخل ہو جاتی ہیں اور اسکے دِل میں  کالے نشان اُبھرنا  شروع ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ تمام دِل تاریکی سے بھر جاتا ہے اور اُس شخص کا اچھے عمل کرنا اور بھلائی برائی کی تمیز کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

اسلئے جنت کا راستہ کے طالبِ علموں کو متواتر 30 دن تک ایک  وقت میں ایک عضو کے گناہ کو درُست کرنے کی تربیت دی جاتی ہے جب تک کہ وہ  اپنے اعضاء کو منفی طور پر استعمال کرنا ترک کے اُنہیں مثبت طور پر استعمال کرنا شروع نہ کر دے۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص تربیت سے پہلے اپنی زبان کو  بد گو ئی اور لعنت کے لئے استعمال کرتا ہواور تربیت کے بعد وہ یہ چھوڑ کر اِسے اللہ کے ذکر اور انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال کرے۔

دوسری شاخ: دماغ

سفر کی دوسری سطح  دماغ کو  بُری سوچوں سے پاک کرنا ہے اور  دوسری شاخ  اِ س سطح کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں پھر سے طالب علم تخلیق کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہوئے  30 دِن کی تربیت میں   اپنے دماغ کو اللہ اوراسکے  رسولﷺ  کے بارے میں مثبت سوچ میں مصروف رکھتا ہے اور بُری سوچوں اور رغبت  اور شیطان کی سرگوشیوں  پر غالب آنے کے بارے میں سیکھتا ہے۔

تیسری شاخ: دِل

تیسری شاخ دِل کی شیطانی خیالات سے پاکیزگی کی نمائندگی کرتی ہے۔ جیسے کہ، حسد، بے جا غرور، شہوت پرستی، تکبر اور دنیاوی محبت۔  طالبِعلم کو سکھایا جاتا ہے کہ  برے خیالات کو اچھے خیالات میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ جیسے کہ۔ عاجزی اور انکساری، صبر، محبت اور ہمدردی وغیرہ۔

پتے

پتے صحتمند شاخوں پر نکلتے ہیں اور اِسلام میں کردار سازی کے سیاق و سباق میں ہم اپنے طالب علموں کو سکھاتے ہیں کہ پتے اچھے اعمال کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ پاکیزگی کی

 براہ ِراست پیداوار ہے۔  اچھے اعمال کی مثال میں روزہ، حج،  سنت پر چلنا(پیغمبری طرزِ زندگی)، دُعا دینا وغیرہ شامل ہیں۔

کیا طہارت مقصد کا حصول ہے؟

 بدقسمتی سے   اللہ کی راہ پر چلنے والے یہ تصور کر لیتے ہیں کی طہارت ہی انکے مقصد کا حصول ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے طہارت صرف درخت کی شاخوں کی نمائندگی کرتی ہے اور درخت پر ابھی پھل کا لگنا باقی ہے۔

مثال کے طور پر کچھ متلاشی اِس سوچ کے فریب میں آ جاتے ہیں کہ وہ  متقی اور پاک بن گئے ہیں حالانکہ انکا رویہ اُنکی باتوں کے بالکل مترادف ہوتا ہے۔ یہ وہ اشخاص ہوتے ہیں جو خود کو متقی اور مذہبی ظاہر کرتے ہیں جبکہ  اگر کوئی شخص اِن سے بات کرے تو  انکا رویہ  غیر مہذ بانہ اور  سخت ہوتا ہے جو کہ  اسلام میں بتائے گئے آداب کے با لکل خلاف ہے۔

کیا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار یاد دلاتے ہیں کہ ہم ذرائع میں کھونے  کی بجائے نتائج پر دھیان دیں۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ ہمیں یاد کراتے ہیں ظاہری روزہ  صرف معدے کو   بھوکا رکھنا ہے ۔ ذرا سی بدگوئی بالاآخر برے اعمال کا سبب بنتی  اور تمام اچھے اعمال پر پانی پھیر دیتی ہے۔  اسی طرح اللہ تبارک تعا لیٰ ہمیں حدیثِ قدسی میں یاد دلاتے کہ وہ صرف اس شخص کی صالح قبول کرتا ہے  جو عاجزو انکسار  ہو اور اسکی تخلیق سے اچھے  طریقےسے پیش آتا ہو نہ کہ وہ جو شیخی باز ہو۔

ہمیں خود سے یہ پوچھنا چاہئیے  کہ اگر اللہ  کافرض اعمال پر یہ ردِ عمل ہے تو نفل اعمال پر کیسے ہو گا۔ جیسے کہ اس  شخص کا ذکر جسکاکردار ظاہری طور پر غیر مہذب اور بُرا ہے۔ اسلئیے ہمارا دھیان ظاہری مذہبی اعمال کے بجائے اپنے کردار پر ہونا چاہیئے  اور یہ بالاآخر اللہ کی خوشنودی کا سبب بنتا ہے۔

کچے پھل

جب درخت بڑا ہوتا ہے اور اسکی شاخیں بڑھ جاتی ہیں تو وہ پھل لاتا ہے لیکن وہ موسم کے شروع  وہ کچے رہتے ہیں۔ یہ کچے پھل  اعمال کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جیسے کہ اللہ تبارک تعا لیٰ کے حقوق،   اسکے رسول حضرت محمدﷺ کے حقوق،    اسکی مخلوق کےحقوق،  والدین، میاں بیوی، بہن بھائی، رشتےدار، پڑوسی،  استاد،  پانی، ماحولیات، زمین،  جانور، قدرتی وسائل، گورنمنٹ،  ساتھ کام کرنے والے اور باقی تمام مخلوق اور انسانیت کے حقوق۔  جنت کا راستہ  میں ہم طالبِ علموں کی کردار سازی پر توجہ دیتے ہیں، اور انکی شخصیت کو  ایک  ایسے فائدے مند اور  ہمدرد شخص کی شخصیت میں تعمیر کرتے ہیں جو   گھمنڈی  اور خود غرض ہونے کی بجائے دوسروں کی خدمت کرنا پسند کرتا ہو۔

مثال کے طور پر  اسلام کے با برکت ساتھی اور متقی پیروکار  اس روشن سطح تک  پاک کئے گئے کہ انسانیت خود انکے قدمو ں میں آ گری اور اُنکے ساتھ چل پڑی۔  جب اِنہوں نے اپنا شہر چھوڑا تو لوگ انکے لئے روئے اور ماتم کیا۔ جبکہ ہماری حالت ایسی ہو گئے ہے کہ لوگ ہم سے کنارہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم انکے شہر اور ملک چھوڑ دیں۔

پکے پھل

درختوں میں سب سے اچھا درخت وہ ہوتا ہے جو  صحتمند اور سیدھا ہو اور سب سے ذیادہ پھل لائے۔ کھانے کے قابل اور پکے ہوئے پھل اُن  خوبصورت اور پیغمبری خصوصیات کی نمائندگی کرتے ہیں جو اللہ  اور اسکے  پیارےرسول حضرت محمدﷺ کی خوشنودی کی کنجی ہیں۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو جنت کا راستہ کورس کی تکمیل پر ایک شخص میں داخل ہو جا نی چا ہیئں۔  پیارےرسول حضرت محمدﷺ کہتے ہیں کہ اگر تم  جنتی لوگوں کو اپنے بیچ چلتے پھرتے دیکھنا چاہتے ہو  تو انکو دیکھو جن میں یہ خصوصیات ہیں۔

 


sdfdfs

عمل: جب لوگ  د نیاوی  چیزیں جمع کر رہے ہو ں یا  اسکی خاطر لڑ جھگڑ رہے ہوں یا اس پر اکڑ دکھا رہے ہوں

ردِعمل: آپ دنیاوی معا ملات میں ان سے منفی طور پر مقابلہ کرنے کی بجائے  ان کی اس اور آنے والی  دنیا  میں کامیابی کی دعا  کریں۔


fruit 2
عمل: جب برائی ہر جگہ ہو اور تیزی سے آپکے گِرد پھیل رہی ہو

ردِعمل: آپ  برائی سے مغلوب ہونے کی بجائے ، اس پر اپنی اچھائی سے غلبہ پائیں۔


fruit 3

عمل: جب لوگ  آپ سے رشتے ناتے توڑدیں

ردِعمل: آپ ان  کو احترام دیں اور تعلقا ت اور رشتوں کو قائم رکھیں۔


fruit 4
عمل: جب لوگ  آپ کو دکھ پہنچائیں اور آپ سے نفرت کریں

ردِعمل: آپ اللہ جو بڑا رحیم ہے، اسکی خاطر اپنے نفرت کرنے والوں سے محبت کریں۔


fruit 5
عمل: جب لوگ آپ کے ساتھ برائی کر کے آپ کو نقصان  پہنچائیں

ردِعمل: آپ انکے بھلائی کریں اور انکے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔

 


fruit 6
عمل: جب لوگ  آپ کے لئے کوئی برا کام کریں

ردِعمل: آپ انہیں احترام دیں اور معاف  کریں


fruit 7
عمل: جب لوگوں کا رویہ آپکے لئے منفی ہو اور وہ آپکی مدد نہ کریں

ردِعمل: آپ ان سے کامل ہونے کی اور ان سے کسی فائدے کی توقع نہ رکھیں


fruit 8
عمل: جب لوگ  آپ کو آپکے حق سے محروم کر دیں

ردِعمل: آپ انہیں فائدہ اور نفع پہنچائیں۔


fruit 9
عمل: جب آپکو دوسروں کی طرف سے برائی ملے پر آپ بدلے میں بھلائی کریں

ردِعمل: آپ ان سے ملنے والی برائی اور آپکی طرف سے کی جانے والی اچھائی کو بھول جائیں



تعلیمات کا خلاصہ

جنت کا راستہ کورس کا مقصدشخصی طور پر ہر طالبِعلم کی کردار سازی اور اسکی نشونما ہے تاکہ وہ ایک ایسا انسان بن جائے جو تمام مخلوقات کے لئے رحمت کا باعث ہو اور اسکا  اپنے خالق  اللہ قادرِمطلق اور اسکے پیارے رسولﷺ  کے ساتھ بہت ہی خوبصورت تعلق قائم ہو جائے۔

محبت  اور تبدیلی کا  انقلاب ایک وقت میں ایک شخص کے ساتھ جنم لیتا ہے تاکہ ہر شخص دوسرے شخص کے لئے محبت اور اُمید کا مینار بن جائے اور پھر یہ اثر پھیلنا شروع ہو جائے۔  اس بات کو جانیں کہ سیکھنا  محض  سیکھنے  یا بحث کرنےکے غرض سے نہ ہو  بلکہ  صرف سچے مسلمان بننا سیکھیں اور آخرکار لوگ دوبارہ اسلام سے محبت کرنا شروع کر دیں گے۔

جیسے کسی  دانا کی کہاوت اس لکھائی پر کیا خوب بیٹھتی ہے، درخت کی مانند بنو، “پھلدار بنو جہاں کہیں  اللہ نے تمہیں لگایا ہے”۔

اگر آپ اپنے قادرِمطلق کی خوشنودی   کے سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور اپنے کردار کی نشونما کرنا اور اسے بہتر بنانا چاہتے ہیں تو آج ہی مفت پیغمبری راہ  میں اپنی پروفائل بنائیں تاکہ ہمارے راہنماہ کی مدد سے آپ  اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی اور قربت کے سفر کا آغاز کر سکیں۔

.