راہنما

جیسے ایک  شخص کو ڈرائیوری  کورس شروع کرتے  ہوئے راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی  اس   شخص کو بھی جو   اللہ کی قربت اور خوشنودی کے سفر کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔  بغیر ہدا ئیت کار کے ایک سیکھنے والا ڈرائیور   کسی خطرناک  حادثے کا شکار ہو سکتا ہے یا بےوجہ اپنے سیکھنے کے عمل کو طویل بنا سکتا ہے۔

 

اسی طرح راہنما کے بغیر ، ایک حق کا متلاشی شخص اپنے روحانی سفر کے دوران  نادانستہ طور پر    شیطان، نفس اور دنیا   کےگڑھوں اور سوراخوں میں گر  کر  حادثات کا شکار ہو سکتا ہے یا  لاعلمی میں اپنا سفر طویل کر سکتا ہے۔    اس سے متعلق  مولانا جلال الدین رومیؒ  کی قابلِ ذکر رائے ہے۔ ” راہنما کے بغیر سفر کرنے والے کو   دو دن کے سفر کے لئے دو سال چاہیئے ہوتے ہیں”۔

 

ماضی کے ایک معزز استاد نے   بہت محرکانہ طور راہنمائی  کو فر وغ دیتے ہوئے کہا” راہنماؤں کے احکام پر دھیان دینا اور ان پر عمل کرنا چاہیئے۔ وہ تمہاری اللہ کی راہ میں راہبری کریں گے کیونکہ وہ پہلے سے اس راستے پر سفر کر چکے ہیں ۔”

 

پیغمبرانہ راہ   میں راہنما کا کام اس بات کی یقین دہانی کرنا ہوتا ہے کہ ہر متلاشی کو ایک راہنما تفویض کیا جائے  جو شروع کی نشو نما میں اسکی راہنمائی کرے۔  راہنما متلاشی کی  پیش رفت کی نگرانی کرے  گا، اسے کام سونپے گا اور اسکے سوالات   کے جوابات دے گا۔  راہنما کا مقصد   قرآنِ پاک اور سنت کی تعلیمات کی روشنی میں  رہتے ہوئے  اللہ  کے خوشنودی کے سفر میں طالب علم  کی محض راہبری اور راہنمائی کرنا ہے۔

اسلئے ہم  اپنے تمام طاب علموں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ  ان سہولیات کا استعمال کریں جو ہمارے  راہنما  (خواتین کے لئے خواتین اور مرد  حضرات کے لئے مرد) فراہم کرتے ہیں۔