ایک تازہ آغاز کے لئے چار کنجیاں

adminBlog, UncategorizedLeave a Comment

تو تازہ آغاز درحقیقت ہے کیا؟ یہ ماضی کے دروازے کو بند کرکے ایک نئے آغاز میں داخل ہونا ہے۔ اور توبہ درحقیقت یہی ہے۔ یہ برائی سے اچھائی کی جانب ، گناہگار زندگی سے متقی طریقوں پر واپسی ہے۔

توبہ ایک دروازہ ہے جس سے کوئی شخص داخل ہوتا ہے ۔ یہ مومنوں کے لئے پناہ گاہ ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو ان سے محبت ہے جو توبہ کرتے ہیں اور وہ جو اس کی راہ میں واپس لوٹتے ہیں ۔ توبہ اللہ تعالی ٰ سے اپنا رشتہ سوارنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔

لیکن ، دراصل نئے کامیاب آغاز کے لئے آپ کو کیا چاہئے؟ کیسے آپ ا پنی ماضی کی زندگی سے منقطع ہو سکتے ہیں اور کیسے پرانی زندگی کو دوبارہ عمل میں لائے بغیر ایک نئی تازہ زندگی کی شروعات کر سکتے ہیں ؟

اس بلاگ میں ہم اسی کی کھوج لگائیں گے۔ ایک نئے آغاز کے لئے اور اپنی ماضی کی زندگی سے منہ موڑنے لئے ہم چار شرائط کا انکشاف کریں گے۔ اسے توبہ کی چار شرائط بھی کہتے ہیں ۔

پہلی شرط : کئے گئے گناہوں پر شرمندگی اور افسوس محسوس کرنا

آپ کو کسی بھی گناہ کو کرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہو پھر چاہے وہ گناہ ِ کبیرہ ہو یا صغیرہ (مکروہ عمل) ۔ اس لئے کہ ہر دن ہر نافرمانی کے ساتھ ایک تاریکی دِل میں داخل ہوتی ہے کہ اسے ناپاک کرے۔

گناہگار کے ٹوٹنے کا ا حساس کسی شخص کو توبہ کی جانب راغب کرنے کے لئے ضروری ہے۔ یہ ایک نشان ہے کہ اس انسان کے دِل پر شیطان کی مہر نہیں لگی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ سنوارنا اس کے لئے ابھی بھی ممکن ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالی ٰ فرماتے ہیں :

” اور وہ جنہوں نے شرمندگی کے کوئی کام کئے ہیں ، اور اپنی روحوں کے ساتھ نامناسب برتاؤ کیا ہے، سنجیدگی سے اپنے ذہنوں کو اللہ کی جانب راغب کریں اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں – اور اللہ کے سوائے کون ان کے گناہوں کو معاف کر سکتا ہےَ۔۔۔اس کے لئے ان کے رَب کی جانب سے معا فی کا صلہ ہے اور وہ باغ جن کے نیچے دریا بہہ رہے ہیں – ایک ابدی گھر: عمل(اور کوشش) کرنے والوں کے لئے کیا اعلیٰ اجر ہے” (3:135; 136)۔

اب اس کا موازنہ اس شخص کے ساتھ کریں جو گناہ کر کے اس پر شر مندہ ہونے کی بجائے اپنے گناہ کے اعمال پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ اس شخص کے لئے توبہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ایسے باغی شخص کا دل مردہ ہو چکا ہوتا ہے اور شیطان کا اوزار بن چکا ہوتا ہے۔ اس طرح کے دِل کے متعلق اللہ تعالی ٰ فرماتے ہیں:

“پھر ، اس کے بعد تمہارے دِل پتھر کی طرح سخت کر دئے گئے یا پھر اس سے بھی ذیادہ۔ اور درحقیقت یہ وہ پتھر ہیں جن سے دریا پھوٹ نکلتے ہیں ، اور درحقیقت ان (پتھروں ) میں وہ بھی ہیں جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں کہ پانی ان میں سے بہہ جائے، اور درحقیقت ان (پتھروں ) میں وہ بھی ہیں جو ، اور اللہ کے ڈر سے گر جاتے ہیں ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ “

اس طرح کے شخص کے دِل کو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی معجزہ ہی نرم کر سکتا ہے اور اسے توبہ کی جانب راغب کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دل کی سختی سے بچائے رکھے، آمین ۔

اس لئے جب آپ کسی نافرمانی کے عمل کے مرتکب ہوتے ہیں جو آپ میں شرمندگی اور ٹوٹنے ا حساس کو جنم لیتا ہے تو جان لیجئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب پھرنے اور توبہ کرنے کا اچھا نشان ہے۔ نااُمید نہ ہوں اور دیر نہ کریں کیونکہ آپ بہت بار ناکام ہو چکے ہیں جیسے کہ اِبنِ عطا اللہ السکندری تاج العرس ؒ نے فرمایا:

“خُدا تمہیں تکبر اور جہالت سے بچانے کے لئے تمہارے گناہ کرنے پر فیصلہ دے سکتا ہے۔ دراصل یہ بیان کیا گیا ہے، ‘ بہت سوں میں ایک گناہ ہے جو اس کے سرانجام دینے والوں کو جنت میں داخل کرنے کا سبب بنتا ہے “۔

دوسری شرط : وہ ذرائع جو آپ کو گناہ کی جانب راغب کرتے ہیں ان سے منقطع ہو جانا

اب آپ کو ان اعمالوں کو چھوڑنا ہے جو آپ کو پہلے نافرمانی کی طرف لے جا رہے تھے ۔ مثلاً بُری صحبت، ٹی وی ، انٹر نیٹ وغیرہ وغیرہ۔

جو صحبت آپ رکھتے ہیں ا س کا بہت اثر آپ کی معمول کی زندگی پر ہوتا ہے۔ خُدا تعا لیٰ کے پیارے پیغمبر نے فرمایا:

” کوئی بھی شخص وہی مذہب اختیار کرتا ہے جو اس کے پیاروں کا ہوتا ہے تو ہر کوئی جس کو دوست رکھتا ہے اسے اسکی پیروی کرنے دو ” (احمد ، الترمزی)

أبو موسى الأشعري ؒ بھی بتاتے ہیں : میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا:

“اچھی صحبت اور بُری صحبت ایک مشک کے مالک اور ایک دھونکنی بجانے والےکی مثال جیسی ہے۔ مشک کا مالک یا تو کچھ مفت پیش کرے گا یا آپ کو اس سے یہ خریدنا ہو گا یا آپ اس کی خوشبو سے محصور ہو سکتے ہیں ؛ اور وہ جو دھونکنی بجاتا ہے (جیسے کہ لوہار) یا تو آپ کے کپڑے جلا دے گا یا آپ کو سڑی ہوئی بدبو ملے گی ۔ ” ( البخاری اور مسلم)

یہ مبارک حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں بحالی کے لئے ہمارے دوستوں کا دائرہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمیں اپنے دوستوں کا انتخاب کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہئےاور کم از کم توبہ کے دوران ان لوگوں سے رابطہ محدود رکھنا چاہئے یا منقطع کر دینا چاہئے جو ہمیں گناہ کی جانب راغب کرتے ہیں ۔

تو اپنے پرانے دوستوں کی طرف جانے کی بجائے کچھ نئے دوست بنائیے جو آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس ڈگمگاتی زندگی کی یاد دلائیں ۔

کیا بُری صحبت سے مراد صرف وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ آپ اپنا وقت گزارتے ہیں یا یہ اس سے ذیادہ ہے؟ دراصل یہ لوگوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں آپ کا کمپیوٹر، انٹر نیٹ، ٹی وی یا کوئی سرگرمی بھی شامل ہو سکتے ہیں جن پر آپ اپنا وقت گزارتے ہیں اور جو آ پکو اللہ تعالیٰ کی یا د کو بُھلا دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ کا دماغ بھی اچھی اور بُری صحبت ہو سکتا ہے اس کا انحصار ان خیالوں پر ہے جو آپ تصور کر رہے ہیں !

سیدنا اِبنِ عطا اللہ ؒ صحبت کے بارے میں فرماتے ہیں :

” جب آپ دنیاوی لوگوں کے ساتھ صحبت رکھتے ہیں تو وہ آپ کو دنیاوی زندگی کی جانب راغب کرتے ہیں ۔ جب آپ دوسری دنیا کے لوگوں کے ساتھ صحبت رکھتے ہیں تو وہ آپ کو خُدا تعالیٰ کی جانب راغب کرتے ہیں ۔ نبی ِ کریم ﷺ نے فرمایا، ‘ کوئی شخص اپنے قریبی دوستوں کا مذہب جذب کرتا ہے ۔ ‘ جیسے کہ آپ مکمل غذا کھاتے ہیں تاکہ نقصان دہ جُز کھانے سے باز رہیں اور جیسے آپ شادی کے لئے خوبصورت خاتون کا چناؤ کرتے ہیں اسی طرح قریبی دوستی کے لئے انہی لوگوں کا انتخاب کریں جو آپ کو خُدا تعالیٰ کی راہ کا علم دے سکتے ہوں ۔ “

تیسری شرط : دوبارہ گناہ نہ کرنے کا ایک مخلص ، ثابت قدم اور مضبوط ارادہ رکھئے

آپ کو اب تاریک زندگی میں واپس نہ جانے کا ارادہ کرنے کے لئے اپنے دل اور دماغ کو استعمال کرنا ہے اور سیدھے اور نیک راستے پر چلنے کا پختہ ارادہ کرنا ہے ۔

آپ کو یاد رکھنا ہے کہ محض خواہش کرنا آپ کو واپس لے جانے کے سوائے اور کہیں نہیں لے جائے گا۔ اس لئے جب آپ مخلص ارادہ کرتے ہیں تو اس بات کی یقین دہانی کیجئے کہ آپ تبدیلی کی محض خواہش نہیں کر رہے ہیں بلکہ آپ ” تبدیلی “کے لئے واقعی تیار ہیں !

جب آپ کے اندر کچھ کرنے کی “آرزو” ہوتی ہے تو اس کے حصول کے لئے آپ کو کچھ سرگرم اقدام لینے ہوتے ہیں ۔ نیچے دی گئی تصویر دیکھئے جو خود اپنے پیغام کو بیان کر رہی ہے! آپ اس کو مزید تفصیل کے ساتھ جنت کا راستہ کی کورس ُبک کے صفحہ36پر دیکھ سکتے ہیں ۔

اس بات کی یقین دہانی کیجئے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کچھ نہ کرنے کا کوئی وعدہ نہ کریں ! وعدے مقدس ہوتے ہیں اور ان کو ہلکا نہیں لینا چاہئے۔ اس کی بجائے مضبوط ارادہ کریں اور پھر اپنی پوری کوشش کریں !
فرض کریں کہ آپ نے صبح میں گالی نہ دینے کا مخلص ارادہ کیا اور پھر آپ نے شام میں گالی دی ۔ پھر آپ کیا کریں گے؟

آسان ہے، صرف بلاجھجھک توبہ کریں ، دوبار ہ سے اپنا پختہ ارادہ کریں (اولین نصیحت: جن حالات میں آپ نے قسم کھائی ان کو ریکارڈ کرنے کے لئے جنت کا راستہ ایپ کا استعمال کیجئے تاکہ آپ ایسا دوبارہ ہونے کی صورت میں ایک نمونہ اخز کر سکیں – مثلاً شاید کچھ دوستوں کی صحبت میں ) اور دوبارہ آغاز کیجئے۔

چلئے اب اس تیسری شرط کے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کے بارے میں بات کریں ۔ کبھی کبھی لوگ سوچتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے گناہ نہ کرنے کا ارادہ کیا ہے اس لئے وہ گناہ کے عمل کی طرف کبھی واپس نہیں جائیں گے کیونکہ اگر وہ گئے تو خدا تعالیٰ دوبارہ ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا۔ لیکن یہ ایک غلط سوچ ہے۔

یاد رکھئے ، ہم انسان ہیں اور ہم وقتاً فوقتاً خطائیں کریں گے ۔ جو چیز ہمیں مختلف بناتی ہے وہ یہ کہ ہم موت تک بار بار معافی کے طلبگار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

“یقیناً اللہ مسلسل توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ۔ اور وہ ان سے محبت رکھتا ہے جو مسلسل خود کو پاک کرتے رہتے ہیں ۔ (222: 2)”

چوتھی شرط : اللہ تعالیٰ ، بنی ِ کریم ﷺ اور مخلوقات کے حقوق ادا کریں

اب آپ کو اپنی پچھلی خطاؤ ں کا معاوضہ دینا ہے!

فرض کیجئے آپ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے سے قاصررہتے ہیں (مثلاً نماز) دوسری طرف آپ اپنا قرضہ ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔

آخرت کے دن ان دونوں میں سے کیا آ پ کو مشکل میں ڈالے گا۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی خلاف ورزی یا مخلوق کے حقوق کی ؟

جواب : مخلوق

کیوں ؟ یہ آسان ہے اگر آپ اس کے بارے میں سوچیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے خلاف کی گئی خطاؤں کو معاف کر سکتا ہے لیکن اپنے ا نصاف کی وجہ سے اپنی مخلوقات کے خلاف کئے گئے گناہ معاف نہیں کرتا کیونکہ اس خطا کو معاف کرنا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وہ شخص ہی کر سکتا ہے۔

ہمارے پیارے نبی ﷺنے جامع طور پر حدیثِ مبارک میں اس کی وضاحت کی ہے:

” اگر کسی نے اپنے بھائی کی عزت یا اس کے اثاثوں کو پامال کیا ہے یومِ قیامت سے پہلے اسے اپنی معافی حاصل کر لینی چاہئے جب دینے کے لئے کوئی سونا یا چاندی نہیں ہوں گے۔ نہیں تو اس کے کچھ اچھے اعمال (اس شخص کے حقوق کے برابر) اس سے لے لئے جائیں گے اور اس شخص کو دے دئے جائیں گے۔ اگر اس کے کوئی اچھے اعمال نہیں ہونگے تو اس کے بُرے اعمال بھی اسے دے دئیے جائیں گے جس کی اس نے خطا کی ہے۔ “

تو لوگوں کے حقوق کیا ہیں ؟

انسانوں کے حقوق کی تین اقسام ہیں :

1۔ مالی حقوق ( پیسہ ، دولت اور جائیداد)

اگر آپ نے غیر قانونی دولت حاصل کی ہے چاہے وہ زمین ، جائیداد، پیسے، سونے اور چاندی کی صورت میں ہو، ماضی میں زبردستی، چوری یا دھوکہ دہی سے لی گئی ہو تو یہ جائیداد اس کے اصلی مالک کو فوراً واپس لوٹانی چاہئے۔ ورنہ اس شخص کو ان سے معافی مانگنی چاہئے۔ اگر مالک انتقال کر چکا ہو، تو اس شخص کو اسے اس کے وارثوں (اولاد اور رشتے دار) کو لوٹانا چاہئے ۔ اگر کوئی وارث نہیں ہوں تو اس شخص کو ان کی طرف سے اسے صدقے میں دے دینا چاہئے۔

2۔ جسمانی حقوق(زندگی)

اگر آپ نے کسی کو جسمانی، جذباتی یا روحانی طور پر ضرر پہنچایا ہے تو آپ کو ان (یا ان کے انتقال کی صورت میں ان کے خونی رشتوں سے)سے معافی طلب کرنی چاہئے۔

3۔ احترام

آپ کو ان افراد سے معافی طلب کرنی چاہئے جنکی آپ نے بے عزتی کی ہو، یا بدگوئی کی ہو یا تحقیر کے انداز میں ان کا مذاق اڑایا ہو۔

نیچے ایک خوبصورت چارٹ ہے جو آپ کو لازم حقوق کا ایک مجموعی جائزہ دیتا ہے۔ آپ اسے ان لوگوں کا موازنہ کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں جن کے حقوق آپ نے ماضی میں پامال کئے ہیں یا آپ اسے نشان کے طور پر ان کے لئے استعمال کر سکتے ہیں جن کے حقوق آپ کو ادا کرنے ہیں ۔

توبہ کی نماز کےدو رکعات

اب اگر حقیقت میں آپ کو اپنی توبہ کی قبولیت چاہئے تو آپ کو ان تمام شرائط پر پورا اترنا ہو گا! آپ ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑ سکتے

ایک بار آپ ایسا کر چکیں تو یہ سرانجام دینے کی تاکید کی جاتی ہے۔ نمازِ توبہ کے 2نفل

آپ کو مناسب طور پر وضو کرنا چاہئے، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے نماز کے دو رکعات ادا کرنے چاہئیں اور اس بعد دل کی گہرائی سے آنسوؤں کے ساتھ اپنے گناہوں کو یاد کرنا چاہئے ، انتہائی دُکھ او ر افسوس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کرتے ہوئے کہ ،

اے اللہ ، تیرے سوا اور کوئی رب نہیں اور میرے علاوہ تیرے بہت سے بندے ہیں اور تیرے علاوہ ان میں سے کوئی بھی میرے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ اپنے فضل اور رحم سے مجھے معاف کر اور مستقبل میں گناہوں سے بچنے میں میری مدد کر۔ “

نماز سے پہلے اور اس کے بعد آپ کو نبی ِ کریم ﷺ پر دروُد بھیجنا چاہئے۔

اس نماز کو ادا کرنے کا سب سے بہترین وقت رات کا آخری حصہ (تجہد)ہے جس کے دوران اللہ تعالیٰ خود اعلان کرتے ہیں کہ ، ” کیا کوئی گناہ سے توبہ کرنے والا ہے؟”

اور ۔۔۔یہ توبہ کا مکمل طریقہ اور چار شرائط ہیں !

کیا کوئی ایسا گناہ ہے جس سے آپ کے بارے میں آپ سنجیدگی سے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کے متعلق پوشیدگی میں بات کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمارے خواتین کے لئے خواتین اور مرد حضرات کے لئے مقر کردہ مرد اسا تذہ کو ایک پیغام بھیجئے جو آپ کو پوشیدہ طور پر مزید نصیحت کریں گے۔

ہماری مفت ویب سائٹ پر ہماری مفت ایپ کو چیک کرنا نہ بھولئیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے